17 ستمبر 2010 - 19:30

واقعہ کی ذمہ داری بلوچ مسلح دفاع وطن نامی تنظیم نے قبول کرلی ہے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کا ہلاکت کے خلاف احتجاج کا اعلان ۔ کوئٹہ میں تمام تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند / بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ کو سپرد خاک کردیا گیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ کو موسٰی کالونی میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے صوبے میں تین دن کی ہڑتال اور چالیس دب کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان کی حکومت نے کوئٹہ میں تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند کر دیے ہیں۔پولیس کے مطابق حبیب جالب بلوچ آج صبح موسی کالونی میں بچوں کو گاڑی میں اسکول چھوڑنے کے لئے گھر سے باہر آئے اسی اثنا میں تین مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ اس اثنا میں مسلح حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ بعد میں حبیب جالب بلوچ کے لواحقین اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد سول ہسپتال پہنچ گئی جہاں انہوں نے واقعہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور سول ہسپتال کے سامنے جناح روڈ بلاک کردیا۔ جناح روڈ پر تمام دکانیں بند کر دی گئیں۔ کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ کو سپرد خاک کردیا گیا ۔کوئٹہ میں حبیب جالب کی نمازجنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔حبیب جالب کو سریاب روڈ کے علاقے پرکانی آباد میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کرکےاس وقت قتل کیا جب وہ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے جارہے تھے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم نے وزیر اعلٰی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو فون کر کے حبیب جالب کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعلی بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے قتل کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن قاضی عبدالواحدکا کہنا ہے کہ حبیب جالب کے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لئے 4 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے حبیب جالب کے قتل کیخلاف چالیس روزہ سوگ اورتین روزہ پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی کو بھی احتجاجا دو روز کیلئے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔واقعے کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ کوئٹہ میں کارکنوں نے حبیب جالب کی میت کو گورنر ہاوس لے جانے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیئے شیلنگ کی۔ کارکنوں نے حبیب جالب کی میت جی پی او چوک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے احتجاجًا کراچی۔کوئٹہ شاہراہ بلاک کردی ۔ جبکہ نوشکی روڈ کو بھی ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا۔صوبے کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیےگئے ۔ نوشکی میں مشتعل افراد نے بی اینڈ آر ریسٹ ہاؤس کو آگ لگا دی اور دو گاڑیوں کو نذر آتش کردیا ۔جب کہ مستونگ،سوراب ، جعفر آباد،تربت، خضدار،پنجگور،قلات، مکران اور دیگر شہروں میں بی این بی کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ واقعہ کی ذمہ داری بلوچ مسلح دفاع وطن نامی تنظیم نے قبول کرلی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈی آئی جی آپریشنز حامد شکیل نے جیو نیوز کو بتایا کہ حبیب جالب بلوچ کو تین نامعلوم حملہ آوروں نے گھر کے قریب نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حبیب جالب کے قتل کے واقعہ کے بعد علاقہ کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔واضح ہو کہ حبیب جالب بلوچ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل تھے۔ وہ سینیٹ کے رکن بھی رہے۔حبیب جالب بلوچ نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ اور اعلی تعلیم روس میں حاصل کی۔انہوں نے وکیل کی حیثیت سے پیشہ ورانہ زندگی جب کہ سیاسی کیرئیر کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رکن کی حیثیت سے کیا۔وہ بعد میں بی ایس او کے چیئرمین بھی رہے۔حبیب جالب نے بلوچستان نیشنل موومنٹ اور بلوچستان نیشنل پارٹی میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دیے۔حبیب جالب بلوچ مارچ 1997میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔حبیب جالب بلوچستان میں حقوق کے حوالے سے جدوجہد میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور انہیں اس حوالے سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110